عمران خان اور چوھدری سرور : ایک اور بزنس ڈیل
چوھدری
سرور ایک بزنس مین ہیں، برطانیہ کے ارب پتی تاجروں میں ان کا ایک ممتاز مقام ہے۔
بزنس میں زیرو سے شروع کرتے ہوئے ارب پتی
بننے ولے شخص کے متعلق یہ سمجھنا
کہ وہ صرف قوم کی خدمت کیلئے برطانیہ چھوڑ کر پاکستان آگئے سادگی کی انتہا ہے۔
چوھدری صاحب بزنس مین تھے اس لئے ان کی نظریں پاکستان کی مارکیٹ پر لگی تھیں اور
وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس وقت حکومت نواز شریف کے پاس ہے اور باریوں کے کھیل کی
رو سے ان کے آیئندہ پانچ سال پورے ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نواز شریف اور انکی
فیملی پاکستان میں ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر کے مالک ہیں جسکے پاس بے انتہا
دولت ہےاور حکومت میں آجانے کے بعد اس دولت میں ہر روز غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔ چوھدری صاحب نے
کاروباری سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے شریف فیملی اورپاکستان کے حکمران خاندانوں
کےانداز تجارت کو اپنایا اور حکومت میں
شامل ہونے کیلئے کوششیں شروع کردیں۔اسکے لئے انہوں نے برطانوی شہریت کو ترک
کرنے کا اعلان کیا۔ وہ ایک چالاک شخص ہیں اور جانتے ہیں کہ برطانوی شہریت انکے لئے
کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انکی آٹھ ارب پاؤنڈ کی دولت کے باعث برطانیہ یا کسی بھی ملک
کی شہریت ان کے لئے پلیٹ میں رکھا ہوا ایسا کیک ہے جسے وہ جب چاہیں اٹھا کر کھا
سکتے ہیں۔
دوسری
جانب شریف فمیلی بھی گھاگ تاجروں کی فیملی ہے اور دولت کے ساتھ ساتھ دولت مندوں کی
اہمیت کو بھی خوب سمجھتی ہے۔ انکی نظریں بھی چوھدری صاحب کی بے پناہ دولت پر تھیں۔
اب صورتحال کچھ یوں بنی کہ چوھدری صاحب شریفوں کی دولت کو اپنی دولت بڑھانے کے چکر
میں پاکستان آگئے اور شریف فیملی چوھدری صاحب کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کیلئے انہیں
گورنر پنجاب کا عہدہ دینے پر تیار ہوگئی۔
لیکن چونکہ نیتیں دونوں جانب ہی خراب تھیں لہذا یہ
بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ چوھدری صاحب کو کچھ دنوں میں ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ
گورنری تو محض دکھاوے کا عہدہ ہے اور
اسمیں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اپنے ان
تجارتی مفادات کو جن کیلئے وہ پاکستان آئے تھے اس عہدے کے ذریعے پورا کر
سکیں گے۔اس کے ساتھ ہی وہ نواز شریف کو اپنی دولت پر ہاتھ رکھنے کا موقع بھی نہیں
دے رہے تھے کیونکہ کاروباری آدمی اسی وقت اپنے پلے سے کچھ ڈھیلا کرتا ہے جب اسے
بدلے میں اس سے زیادہ مل رہا ہو۔اورنواز شریف بھی یہی سوچ رہے تھے کہ پہلے اس سے
کچھ نکلوالیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں بنیوں نے ایک دوسرے کی نیتیں بھانپ لیں اور
بالآخر وطن سے محبت کے نام پر کی جانے والی یہ شادی ناکامی کے انجام سے دوچار
ہوئی۔ لیکن ابھی مارکیٹ میں کچھ اور پارٹیاں بھی موجود تھیں جو خاموشی سے یہ ڈیل
دیکھ رہی تھیں اور انتظار میں تھیں کہ
سودا نہیں پٹ سکا تو ہم اس امیر گاہک کو گھیر لیں۔
جونہی
یہ موقع آیا نئی پارٹی میدان میں آگئی۔ لیکن چوھدری صاحب بھی ایک ہی کایئاں آدمی
ہیں۔ وہ اس دوسری پارٹی کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس آدمی کے پاس نہ
صرف بہت دولت ہے بلکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کامیاب بزنس مین کمیونٹی یعنی
یہودیوں سے اس کے انتہائی خاص تعلقات ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس نے برطانوی
شاہی خاندان میں بھی اثر ورسوخ حاصل کرلیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سب کسی بھی
کاروباری شخص کیلئے انتہائی پرکشش چیزیں
ہوتی ہیں۔ لہذا انہوں نے اب تحریک انصاف
میں انویسٹمنٹ کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی
بھی ایک کاروباری پارٹی ہی ہے جس میں عہدے امیر ترین افراد کیلئے ہی مختص ہوتے ہیں
جس کی مثال فوزیہ قصوری، شیریں مزاری، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، جیسے لوگ ہیں۔ لہذا اس پارٹی کی بھی نظر اس امیر
ترین شخصیت کی دولت پر تھی اوراس کو پارٹی میں لا کر کسی بڑے عہدے کا لالچ دے کر اسکی
دولت میں سے کچھ نہ کچھ تو حاصل کیا ہی جا سکتا تھا۔
لیکن
چوھدری صاحب بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے
ہوئے ہیں۔ وہ پارٹی کے پچھلے صدر کا انجام دیکھ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس پارٹی میں صدر کے عہدے کی کوئی حیثیت نہیں اور جب عمران خان
چاہے اسے اسکی اوقات یاد دلاتے ہوئے پارٹی سے نو دو گیارہ کر سکتا ہے لہذا اب کی
بار گورنری قبول کرنے جیسی ایک اور حماقت سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے انہوں نے صدارت قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔
عمران خان ایک جانب ایم کیو ایم سے اپنی لڑائی میں مسلسل رسوائی کا منہ دیکھ رہے ہیں ، دوسری جانب الیکشن کمیشن، عدلیہ اور
پارلیمنٹ میں انہیں ہر معاملے میں ہزیمت اٹھانی پڑرہی ہے۔ اب وہ اس معاملے میں بھی
پریشان ہوگئے ہیں کہ چوھدری صاحب کو کیسے پٹایا جائے۔ چوھدری صاحب تو انہیں ہاتھ دکھا گئے ہیں۔ عمران جانتے ہیں کہ بغیر کسی
عہدے والا چوھدری ان کیلئے عہدے والے چوھدری سے زیادہ خطرناک ہوگا۔ وہ جانتے ہیں
کہ یہ شخص کسی بھی وقت ان کیلئے راجہ پورس کے ہاتھیوں والا کردار ادا کر سکتا ہے۔
عمران عجیب دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف انکی لالچ مجبور کررہی ہے کہ وہ چوھدری
صاحب کو کسی صورت بچ کر نہ جانے دیں اور دوسری طرف یہ بھی خطرہ ہے کہ انکے ساتھ
ہاتھ نہ ہوجائے۔
چوھدری سرور صاحب بھی اپنے پتے کھیل رہے ہیں اور عمران خان بھی ، فرق یہ ہے کہ چوھدری صاحب کے پاس عقل ہے جب کہ عمران اس سے بالکل ہی پیدل ہیں۔چوھدری سکون سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور عمران اپنی فرسٹریشن اور مایوسی ایم کیو ایم کو گالیاں دے کر نکالتے ہیں۔ لیکن اسکے نتیجے میں انہیں پہلے سے زیادہ ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ دیکھیں کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور چوھدری صاحب کا یہ طویل کاروباری دورہ کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں۔
چوھدری سرور صاحب بھی اپنے پتے کھیل رہے ہیں اور عمران خان بھی ، فرق یہ ہے کہ چوھدری صاحب کے پاس عقل ہے جب کہ عمران اس سے بالکل ہی پیدل ہیں۔چوھدری سکون سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور عمران اپنی فرسٹریشن اور مایوسی ایم کیو ایم کو گالیاں دے کر نکالتے ہیں۔ لیکن اسکے نتیجے میں انہیں پہلے سے زیادہ ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ دیکھیں کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور چوھدری صاحب کا یہ طویل کاروباری دورہ کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں۔
